حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یومِ وصال حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور یوم شہادت کریم اہل بیت حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑ کی مناسبت سے جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے زیرِ اہتمام حسب سابق وادی کے مختلف علاقوں میں مجالسِ عزاء اور خصوصی مذہبی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔

مرکزی نوعیت کی مجالس مرکزی امام باڑہ بڈگام اور قدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں منعقد ہوئیں، جبکہ یال کنزر، بونہ محلہ نوگام، گامدو، اُڑینہ سوناواری، وانہ ہامہ بیروہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی مجالسِ عزاء کا اہتمام کیا گیا، جن میں عزاداروں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
قدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے رحلت رسول اکرم ؐ سے متعلق تاریخی واقعات اور اس سانحہ کے امت مسلمہ پر اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ؐ کی عالم بقا کی جانب رحلت پوری انسانیت اور کائنات کے لیے ایک عظیم صدمہ تھا، جس کی یاد میں آج بھی گریہ و ماتم عشق رسول ؐ اور وابستگی قلبی کا اظہار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ رسول اکرم ؐ کی وفات پر سوگ اور گریہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حیات نبی ؐ کے عقیدے سے انکار کیا جائے، بلکہ یہ امت کی گہری محبت اور وابستگی کی علامت ہے۔
آغا سید حسن نے حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑ کی حیات مبارکہ اور سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام حسن مجتبیٰ ؑ نے دین و ملت کے تحفظ اور امت مسلمہ کو ایک تباہ کن داخلی انتشار سے بچانے کے لیے اپنے منصب ظاہری کی قربانی دی۔

انہوں نے کہا کہ اس دور میں مسلمان باہمی انتشار کا شکار تھے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے تھے، ایسے نازک حالات میں امام حسن ؑ کا فیصلہ امت کے وسیع تر مفاد، دین کی بقا اور اسلامی وحدت کے تحفظ پر مبنی تھا۔
انہوں نے کہا کہ امام حسن مجتبیٰ ؑ کی حیات مبارکہ کے مختلف اور انتہائی کٹھن مراحل اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام نے ہر دور میں حالات کے تقاضوں کے مطابق اسلامی موقف کو اختیار کیا اور شدید مخالفت و مشکلات کے باوجود اپنے اصولی مؤقف سے انحراف نہیں کیا۔
آغا سید حسن نے کہا کہ امام حسن ؑ کی صلح محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قیامت تک مسلمانوں کے درمیان اتحاد، اخوت، بصیرت اور دین کے تحفظ کے لیے ایک روشن رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔









آپ کا تبصرہ